پاکستانی ڈراموں کے “باپ” — حقیقت سے دور کرداروں کی بھرمار
تعارف
آج کے پاکستانی ڈراموں میں "باپ" کا کردار اکثر سنسنی خیز یا منفی رنگ میں دکھایا جاتا ہے، جو ان روایتی اقدار اور محبت سے کوسوں دور ہے جو حقیقت میں باپ کی علامت ہیں۔ ان کرداروں میں شدت پسندی، بےحسی، یا غیر حقیقی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتے ہیں، جو صرف ڈرامے کو مقبول بنانے یا تنازعہ پیدا کرنے کے لیے رچے جاتے ہیں۔
مشہور ڈراموں کے چند باپ
فجر کا باپ ("شیر")
اپنی بیٹی کے مشکل وقت میں ہمدردی یا رہنمائی دینے کے بجائے فوراً انتقامی عمل کا رخ اختیار کرنا، یہ رویہ ہمارے سماج میں "غیرت کے نام پر قتل" جیسے مسائل کو بڑھاوا دیتا ہے۔نہال کا باپ ("ڈائن")
بیٹی کو اپنی غلطی چھپانے کے لیے قربان کرنا اور اسے ایسے خاندان میں بیاہنا ایک غیرمعمولی تخلیقی فیصلے کی مثال ہے جو حقیقی زندگی سے دور ہے۔مایا اور ولی کے والد ("پرورش")
روایتی و جدید روایات میں الجھے والدین کے اُلجھے ذہن، جہاں یوٹرن، تضاد اور بچوں کے معاملات پر غیر ضروری سختی یا کمزوری دکھائی جاتی ہے۔سمیر و میکائیل کے والدین
مثالی، سخت گیر یا خود غرض والدین کے کردار میں بڑی اچانک تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں، جو ناظرین کے لیے بھی ناقابلِ قبول ہو جاتی ہیں۔
عمومی تنقید اور معاشرتی اثرات
یہ ڈرامے “باپ” کو یا تو ظالم بنا دیتے ہیں یا بالکل ہی بےبس و غیر موثر۔ ایسا تاثر ہمارے معاشرے کی حقیقت کے کھلے تضاد میں ہے جہاں باپ ہمیشہ عزت، محبت اور تحفظ کی علامت رہے ہیں۔ اکثر تیز رفتار اور سنسنی خیز پلاٹ میں حقیقی باپ کی رہنمائی اور موجودگی کہیں کھو جاتی ہے۔
ڈرامہ نویسوں اور پروڈیوسرز پر لازم ہے کہ وہ ذمہ داری کو سمجھیں اور والدین کے کردار کو حقیقت سے قریب تر، مثبت اور متوازن انداز میں دکھائیں تاکہ سامعین پر اچھا اثر پڑے۔
